امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ

 

 امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ  

        امام اہل سنت علی الاطلاق احمد بن محمد بن حنبل الشیبانی البغدادی رحمہ اللہ کا نامِ نامی کسی تعارف کا محتاج نہیں، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ خلافتِ عباسیہ کے دارالحکومت دارالسلام بغداد میں ربیع الاول 164 ھ (نومبر 780 ء )میں ایک مجاہد سپاہی محمد بن حنبل کے گھر پیدا ہوئے ، جو کہ مسلم فوج کے اہم کماندار

تھے۔اس وقت عالمِ اسلام پر عادل خلیفہ المہدی ابو عبداللہ محمد بن منصو ر  کی حکومت تھی۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ کے والدِ محترم آ پ کی پیدائش سے صرف تین سال بعد داغِ مفارقت دے گئے تھے۔یوں آپ نے حالتِ یتیمی میں پرورش پائی، مگر آپ کی غیور والدہ ماجدہ نے کسمپرسی کے باوجود آپ کی بہترین تربیت فرمائی۔اس وقت دارالسلام بغداد جملہ معارف و فنون کا مرکز بن چکا تھا، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ نے بچپن ہی میں حفظِ قرآن ،علمِ لغت اور فنِ کتابت سیکھ لئے تھے۔اس کے بعد دیگر علومِ اسلامیہ کی طرف متوجہ ہوئے، جن میں سے ابتداًعلمِ فقہ کی طرف مائل ہوئے،چناچہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے تلمیذ ِرشید امام قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ بغداد میں رائج فقہ حنفی کے عمیق مطالعہ کے بعد آپ کا رجحان علمِ حدیث کی جانب ہوگیا،چنانچہ آپ علمِ حدیث کے حلقوں میں شریک ہونے لگے۔انہوں نے علمِ حدیث کی باقاعدہ تحصیل کا آغاز ١٧٩ ھ میں پندرہ سال کی عمر میں کیا اور پھر تادمِ واپسیں وہ اسی علم کی تحصیل و تکمیل اور نشرو اشاعت میں لگے رہے۔ بغداد کے تمام اہم شیوخ سے علم ِ حدیث حاصل کرنے کے بعد آپ دیگر بلادِ اسلامیہ میں رہنے والے شیوخ سے حدیث سننے کے لئے علمِ حدیث کے تمام مراکز میں تشریف لے جاتے رہے، حجازِ مقدس علمِ حدیث کا اہم ترین مرکز تھا، چنانچہ آپ نے تحصیلِ حدیث کے لئے پانچ بار حجازِ مقدس کا سفر کیا، جب آپ حجازِ مقدس تشریف لے جاتے تو کئی کئی ماہ وہاں قیام فرماتے اور حجِ بیت اللہ کے ساتھ ساتھ کبار شیوخ سے سماعتِ حدیث کا شرف حاصل کرتے۔ آپ نے حجازِ مقدس کاسفر تین بار پا پیادہ کیا،یوں راستہ میں آنے والے شہروں میں مقیم شیوخ سے استفادہ کرتے جاتے تھے۔ حجازِ مقدس کے علاوہ آپ نے محض تحصیلِ حدیث کے لئے جن بلادِ اسلامیہ کا سفر کیا ان میں بصرہ وکوفہ(عراق)، صنعا (یمن)، ثغور(شام) کے طویل و تھکادینے والے سفر سرِفہرست ہیں۔آپ نے حدیث کی نہ صرف سماعت کی بلکہ اس مبارک علم کو اپنے قلب وذہن میں محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ اسے قلمبند بھی کیا۔یہاں تک کہ جوانی میں ہی آپ کو اس علم میں ملکہ تامہ حاصل ہوگیا۔آپ نے جن شیوخ سے کسبِ فیض کیا ان میں امام سفیان بن عیینہ،امام سفیان الثوری، امام عبدالرزاق بن ہمام، امام ابراہیم بن سعد، امام عباد بن عباد اور امام محمد بن ادریس الشافعی رحمہم اللہ تعالیٰ زیادہ نمایاں ہیں۔امام محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ نے آپ میں علمِ حدیث کے ساتھ علمِ فقہ کی چاشنی بھی پیدا کردی، یوں آپ حدیث و فقہ دونوں علوم کے امام بن گئے۔اپنی جلالتِ علمی کے باوجود، آپ کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ آپ چالیس سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے مسندِ تحدیث و افتاء پر متمکن نہ ہوئے کیونکہ اسی عمر کو قرآن نے کمالِ رشد قرار دیا ہے اور اسی عمر کو پہنچ کر خاتم الرسل محمد عربی علیہ الصلوٰة والسلام کی نبوت کا باقاعدہ ظہور ہوا ، جس سے ان(امام موصوف) کی سنتِ نبویہ علیہ الصلوٰة والسلام سے والہانہ محبت کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔مسندِ تحدیث و افتاء پر جلوہ افروز ہونے کے بعد آپ نے اَلْمُسْنَد کی باقاعدہ تدوین کی طرف توجہ فرمائی۔آپ بغداد کی جامع مسجد میں روزانہ صلوٰة العصر کے بعددرسِ حدیث ارشاد فرماتے جس میں ہزاروں طالبانِ علم شریک ہوتے تھے،جن میں سے بہت سے محبان ِ علم آپ کے علم کو ضبطِ تحریر میں بھی لے آتے تھے۔آپ درسِ حدیث کی ایک خصوصی مجلس اپنے گھر پر منعقد فرماتے، جس میں آپ کی اولاد اور بعض خاص شاگردشریک ہوتے تھے۔آپ نے اس مجلس میں المسند املاء کرائی ۔آپ کے اہلِ بیت میں سے امام عبداللہ اور امام صالح رحمہما اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس علم کو محفوظ کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا، ان دونوں بیٹوں میں سے امام عبداللہ رحمہ اللہ اپنے بھائی سے سبقت لے گئے ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ تعالیٰ نے وفات سے قبل مسندکو مختلف اجزاء کی شکل میں جمع کرلیا تھااور اس کے ساتھ ساتھ آپ نے مکمل مسند اپنے اہلِ بیت کو املاء کرادی تھی۔ آخر ١٢ ربیع الاول ٢٤١ ھ(٣١ جولائی ٨٥٥ ئ) بروز جمعہ پیغامِ اجل آن پہنچا اور آپ نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔آپ کی وفات کے بعد آپ کے ہونہار بیٹے اور شاگرد محدث امام عبداللہ رحمہ اللہ تعالیٰ نے المسندکو مجلد کتاب کی شکل دی، تاہم انہوں اس میں بعض وہ روایات بھی شامل کردی تھیں جو انہوں نے اپنے والد سے سنی تھیں، مگر وہ المسند میں موجود نہ تھیں، ان روایات کی تعدادالمسند کی کل روایات کا ایک فیصد بھی نہیں ہے۔

        امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ ایسی بلند پایہ شخصیت ہیں کہ ان کے اساتذہ کا تذکرہ کرنے سے ان(امام احمد ) کی فضیلت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا ،اسی طرح ان کے شاگردوں کا تذکرہ کرنے سے بھی ان(امام احمد ) کے فضل و کمال میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا ہے، ہاں خود ان کی نسبت سے ان کے اساتذہ و تلامذہ کے شرف وفضل میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ کے شاگردوں کی تعداد ایک روایت کے مطابق پانچ ہزار کے قریب ہے،جن میں سب سے نمایاں مقام حاصل کرنے والے امام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل البخاری، امام مسلم بن الحجاج القشیری، امام ابو داؤد سلیمان بن الاشعث السجستانی، امام ابو زرعہ الرازی ، امام عبداللہ بن احمد، امام ابراہیم بن اسحاق الحربی ، امام ابو سعید عثمان بن سعید الدارمی رحمہم اللہ تعالیٰ جیسے جلیل القدر محدثین شامل ہیں۔

        امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ اپنی جوانی میں ہی اپنے علم وتقویٰ کی وجہ سے ہر دلعزیز شخصیت بن چکے تھے،باوجود اس کے کہ آپ نے چالیس سال کی عمر سے قبل باقاعدہ درسِ حدیث اور مجلسِ افتاء قائم نہیں کی تھی، لوگ پھر بھی اپنے روز مرہ مسائل کے حل تلاش کرنے کے لئے آپ کی طرف رجوع فرماتے تھے۔امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ نے جہاں حدیث و فقہ میں لوگوں کے لئے منارۂ نور کا کردار ادا کیا، وہیں علمِ عقیدہ میں بھی آپ کو ایسا نمایاں مقام حاصل ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد اس کی کوئی نظیر پیش نہیں کی جاسکتی۔آپ کے زمانہ میں بہت سے بدعتی فتنے شباب پر تھے، جن میں فرقہ معتزلہ سب سے نمایاں ہو چکا تھا۔معتزلہ کے اس عروج کا سبب یہ بنا کہ خلیفہ مامون الرشید   عقلیت پسندی کے زیرِ اثر معتزلہ سے کافی متأثرہوگیا تھا، چنانچہ اس نے متعدد معتزلہ کو اپنے دربار میں نمایاں مقام دے دیا تھا، حتیٰ کہ وہ اپنے مشیرِخاص ابو عبداللہ ابن ابی داؤد معتزلی کے ہاتھوں کھلونا بن چکا تھا۔معتزلہ کا عقیدہ تھا کہ قرآن مخلوق اور فانی شے ہے، انہوں نے خلیفہ مامون کو بھی اپنا ہم عقیدہ بنا لیا تھا، تاہم مامون بذاتِ خود اس عقیدہ میں متشدد نہ تھا۔اپنی زندگی کے آخری سالوں میں جب تک وہ بغداد میں مقیم تھا،وہ اسی مسلک عدم تشدد پر کاربند رہا۔جب وہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں ایک جہادی مہم پر بغداد سے باہر چلا گیا تو اس کی جانب سے علماء کا عجیب امتحان شروع ہوگیا۔جب وہ بغداد سے دور رِقہ میں بسترِ علالت پر دراز تھا،اس کی طرف سے یہ حکم جاری کیا گیا کہ اگر علماء قرآن کو مخلوق تسلیم نہیں کریں گے تو انہیں سزا دی جائے گی، بعض علماء نے جان بچانے کی خاطربظاہر اس عقیدہ کا اقرار کر لیا،مگر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ اس باطل عقیدہ کے خلاف ڈٹ گئے، جس کی پاداش میں انہیں ضعیف العمری میں سخت اذیتیں پہنچائی گئیں، حتیٰ کہ ان کی بوڑھی پیٹھ پر کوڑے تک برسائے گئے، جن سے وہ لہو لہان ہوگئے۔ مگر انہوں نے سلف کے عقیدہ سے انحراف کرنا گوارا نہ کیا۔آپ یہی کہتے رہے کہ قرآن کلام اللہ ہے اور غیر مخلوق ہے۔آپ آخری دم تک اسی عقیدۂ حق پر ڈٹے رہے ۔اپنی اس غیر معمولی استقامت کے باعث آپ کو پوری امت میںایسی مقبولیت حاصل ہوئی کہ آپ کو امام اہل سنت علی الاطلاق کہا جانے لگا۔آپ کے صبرو استقامت کا یہ فائدہ ہوا کہ امتِ مسلمہ گمراہ ہونے سے بچ گئی۔ جہاں دیگر علماء نے کراہت علی الکفر کو جواز بنا کر ظاہری طور پر خلقِ قرآن کا اقرار کر لیا تھا، اگر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ بھی ان کی طرح مصلحت سے کام لے کر محض زبان سے اس کا اقرار کر لیتے تو اس قدر سخت آزمائش سے بچ سکتے تھے، مگر آپ نے رخصت کی بجائے عزیمت کاراستہ اختیار کیااور امت کے لئے ایسی روشن مثال قائم کردی ، جو انبیا علیہم السلام کے ہاں ملتی ہے۔آپ کے معاصر علماء نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ اپنی جان کی بازی نہ لگاتے تو اسلام مٹ جاتا۔(حلیة الاولیائ:٩/ ٧١)

        امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے علم وتقویٰ ،اعلائے کلمة اللہ اور استقامت علی الحق کی وجہ سے حق و باطل کا ایسا معیاربن گئے، جس سے انحراف کا مطلب اسلام سے انحراف قرار پایا۔یہاں تک کہ امام محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ تعالیٰ (متوفیٰ ٢٠٤ ھ) نے فرمایا:

من ابغض احمد بن حنبل فھو کافر (طبقات الحنابلہ:١/٧)

''جس نے احمد بن حنبل سے بغض رکھا اس نے کفر کیا۔''

 مشہور محدث امام ابو جعفر محمد بن ہارون المخرمی رحمہ اللہ تعالیٰ (متوفیٰ ٢٦٥ ھ) نے فرمایا کہ جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جوامام احمد بن حنبل   رحمہ اللہ تعالیٰ کو برا کہتا ہے،تو سمجھ لو کہ وہ شخص بدعتی گمراہ ہے۔ (کتاب الجرح والتعدیل: ١/٣٠٩)

امام ابو حاتم محمد بن ادریس الرازی رحمہ اللہ تعالیٰ (متوفیٰ ٢٧٧ ھ) نے فرمایا کہ جب تم کسی آدمی کو دیکھو کہ وہ احمد بن حنبل  سے محبت کرتا ہے تو سمجھ لو کہ وہ متبعِ سنت ہے۔ (کتاب الجرح والتعدیل:  ج ١، س ٣٠٨)

امام محمد بن حبان البستی رحمہ اللہ تعالیٰ (متوفیٰ ٣٥٤ ھ) فرماتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل   ثقہ ،حافظ اورمتقی فقیہ تھے جو خفیہ پرہیز گاری اور دائمی عبادت کو لازم پکڑتے تھے۔ ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے امتِ محمدیہ (علیہ الصلوٰة والسلام) کی مدد فرمائی۔یہ اس طرح کہ وہ آزمائش میں ثابت قدم رہے اور اپنے آپ کو اللہ کے لئے وقف کر دیا اور شہادت کے لئے تیار ہوگئے۔آپ کو کوڑے مارے گئے،مگر اللہ نے آپ کو کفر سے بچا لیا اور آپ کوایسا نشان بنا دیاجس کی اقتدا کی جائے اورایسی پناہ گاہ بنا دیا، جہاں پناہ لی جائے۔(کتاب الثقات ابن حبان :

 ج  ٨ ،  ص ٨،١٩)

 امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ کے علم و معرفت کا اعتراف آپ کے تمام معاصرین اور متأخرین کرتے آئے ہیں۔آپ کے تلمیذِ خاص شیخ الاسلام امام ابراہیم الحربی رحمہ اللہ تعالیٰ (متوفیٰ ٢٨٥ ھ)  فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ کواگلے پچھلے تمام علماء کا علم عطا فرمایا تھا۔(محمد بن احمد الذہبی، تذکرة الحفاظ:ج ٢، ص ١٦)

امام موصوف کے معاصر محدث امام ابو زرعہ الرازی رحمہ اللہ تعالیٰ (متوفیٰ ٢٦٤ ھ)  فرماتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ کو دس لاکھ احادیث زبانی یاد تھیں۔(ایضاً،ج ٢، ص ١٥)

امام عبداللہ بن احمدرحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے والد ( امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ) نے بیاض میں دس لاکھ احادیث لکھیں اور ان سب کو حفظ بھی کیا۔(ابو موسیٰ محمد بن عمر المدینی  ،خصائص المسند:ص ١٤)

اتنی تعداد میں احادیث کا حفظ ہونا بذاتِ خود ایک عظیم کرامت ہے، جس میں آپ کی کوئی نظیر نہیں۔یہی سبب ہے کہ جلیل القدرمحدثین آپ کو آپ سے پہلے گزرے ہوئے اکابر آئمہ تک پر فوقیت دیتے تھے۔ امام قتیبہ بن سعید رحمہ اللہ تعالیٰ (متوفیٰ ٢٤٠ ھ) فرماتے ہیں کہ اگر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ نے امام سفیان الثوری،امام مالک اور امام الاوزاعی کا زمانہ پایا ہوتا تو آپ ہی مقدم ہوتے، سائل نے پوچھا کہ کیا  امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ کو تابعین کے ساتھ شامل کیا جاتا ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں بلکہ اکابر تابعین کا ساتھ۔(کتاب الجرح والتعدیل:ج ١،ص ٢٩٣)

امام زکریا بن یحییٰ الساجی رحمہ اللہ تعالیٰ (متوفیٰ ٣٠٧ ھ)  فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ، امام مالک،امام  الاوزاعی ، امام سفیان الثوری اور امام محمد بن ادریس الشافعی رحمہم اللہ تعالیٰ سے بھی افضل ہیں کیونکہ ان سب کی نظیریںموجود ہیں مگر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ کی کوئی نظیر نہیں۔(طبقات الحنابلہ:ج ١، ص ٩)

اگرچہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مبارک دور کے بعدپیدا ہوئے ،مگر اس کے باوجود آپ کو اکابر تابعین جیسا مقام حاصل تھا، جس کا سبب علم وحِلم میں آپ کا وفوروکمال تھا۔آپ کو آپ کے تمام معاصر علماء حدیث نے اپنا امام تسلیم کیا۔جیسا کہ امام قتیبہ بن سعید رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ ساری دنیا کے امام ہیں۔(کتاب الجرح والتعدیل:ج ١، ص ٢٩٥)

امام ابو حاتم محمد بن ادریس الرازی رحمہ اللہ تعالیٰ نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ کے بارے فرمایاکہ وہ (علمِ حدیث کے)امام اور(فن اسما ء الرجال میں ) حجت ہیں۔ (ایضاً، ج ٢، ص ٧٠)

معلوم ہوا کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ دس لاکھ احادیث کے صرف حافظ ہی نہیں تھے بلکہ آپ فنِ اسماء الرجال کے بھی بے مثال ماہر تھے۔احادیث کی صحت و سقم کو خوب جانتے تھے۔امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ تعالیٰ مزید فرماتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ صحیح اور ضعیف احادیث کی معرفت میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔(ایضاً، ج ١، ص ٣٠٢)

اسی پر بس نہیں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ حفظِ حدیث اور معرفتِ حدیث کے ساتھ فقہ الحدیث کے ایسے مجدّدومجتہد امام تھے جس کی کوئی نظیر صحابہ کرام  کے بعد چشمِ فلک نے نہیں دیکھی۔امام ابو عبید القاسم بن سلام رحمہ اللہ تعالیٰ (متوفیٰ ٢٢٤ ھ) فرماتے ہیں کہ علمِ حدیث کی انتہا چار آئمہ (امام احمد، امام علی بن عبداللہ المدینی ،امام یحییٰ بن معین ، امام ابو بکر ابن ابی شیبہ )  پر ہوتی ہے،جبکہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ ان سب میں سب سے بڑے فقیہ ہیں۔(ایضاً، ج ١، ص ٢٩٣)

مجتہد مطلق امام ابو ثور ابراہیم بن خالدرحمہ اللہ تعالیٰ (متوفیٰ ٢٤٠ ھ) فرماتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ، امام سفیان الثوری  سے بھی بڑے عالم یا فقیہ ہیں۔(ایضاً)

 امام بو زرعہ الرازی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ جامع و کامل شخصیت نہیں دیکھی، آپ میں زہد، فضل، فقہ اور دوسری بہت سی صفات جمع تھیں۔(ایضاً ،ج ١، ص ٢٩٤)

محدث مہنا بن یحییٰ الشامی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ تمام قسم کی خیر کا جامع نہیں دیکھا،میں نے امام سفیان بن عیینہ، امام وکیع بن الجراح، امام عبدالرزاق الصنعانی، امام بقیہ بن الولید اور امام ضمرہ بن ربیعہ رحمہم اللہ تعالیٰ  کو دیکھا ہے، مگر علم، فقہ،زُہد اور تقویٰ میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ جیسا کوئی نہیں دیکھا۔(حلیة الاولیا، ج ٩،  ص ١٦٥،  ١٧٤)

        امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ کے فضائل و مناقب بیشمار ہیں، جن کا احاطہ کرنا غیر ممکن ہے۔ محدث ابو العباس محمد بن حسین الانماطی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں تھے جس میں امام یحییٰ بن معین ،امام ابو خیثمہ زہیر بن حرب اور اکابرعلماء کی ایک جماعت موجود تھی، وہ سب امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ کی تعریف اور فضائل بیان کر رہے تھے،ایک شخص کہنے لگا کہ ایسی باتیں زیادہ مت کریں۔اس پر امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ کی کثرت سے تعریف بیان کرنا زیادتی ہے؟ اگر ہم اپنی ساری مجلسوں میں صرف ان کی تعریف ہی بیان کرتے رہیں تو بھی ان کے مکمل فضائل بیان نہیں کر سکتے۔ (ایضاً، ج ٩، ص ١٦٩)

        امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ کے مناقب مستقل کتابی شکل میں جمع کرنے کا شرف متعدد علماء نے حاصل کیا ہے، جن میں امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد الطبرانی   (متوفیٰ ٣٦٠ ھ) ، امام ابو بکر احمد بن الحسین البیہقی  (متوفیٰ ٤٥٨ ھ)، امام ابو اسماعیل عبداللہ بن محمد الانصاری الہروی  (متوفیٰ ٤٨١ ھ)،امام ابومحمد عبداللہ بن یوسف الجرجانی   (متوفیٰ ٤٨٩ ھ)، امام ابو الحسین محمد بن ابو یعلیٰ البغدادی (متوفیٰ ٥٢٦ ھ) ، امام ابو زکریا یحییٰ بن عبدالوہا ب ابن مندہ الاصبہانی   (متوفیٰ ٥٤١ ھ )، امام ابو لفرج عبدالرحمٰن بن علی ابن الجوزی  (متوفیٰ ٥٩٧ ھ) اور امام محمد بن احمد الذہبی  (متوفیٰ ٧٤٨ ھ ) کے اسماء اعلام سرِ فہرست ہیں۔(سیر اعلام النبلائ)

 رضی اللہ عنہم         المسند کی تدوین سے پہلے عام رواج تھا کہ محدثین خاص خاص صحابہ کرام

کی احادیث جمع کرتے تھے، شام کے محدثین نے شام میں بسنے والے صحابہ کی مرویات جمع کرنے کا کام سرانجام دیا، حجازی محدثین نے حجاز میں رہنے والے صحابہ کی احادیث اکٹھی کیں، جبکہ امام احمد نے تمام بلادِ اسلامیہ میں بکھرے ہوئے تقریبا سبھی  صحابہ کرام

کا علم حاصل کیا اور اسے المسند کا حصہ بنایا، یوں المسند اکثر صحابہ کرام

 کی مرویات کا مجموعہ ہے۔ اکثر صحابہ کی احادیث جمع کرنے کے لیے آپ نے بلادِاسلامیہ کے تمام معروف مراکز حدیث کا سفر کیا اور وہاں کے محدثین عظام سے کسب فیض کیا، حجازمقدس، بصرہ، کوفہ، دمشق، یمن وغیرہ کے سفروں کا تذکرہ آپ کی سوانح میں ملتا ہے، حج کے موقع پر اکثر محدثین مکہ میں جمع ہوتے تھے، اس لیے آپ نے پانچ بار حجاز مقدس کا سفر کیا، حج کی سعادت کے ساتھ ساتھ طلب حدیث کا فریضہ بھی ادا کرتے۔ اس طرح آپ کے پاس ان تمام جلیل القدر صحابہ کرام؎

 کا علم جمع ہوگیا، جن سے تابعین نے کسب فیض کیا۔ اس وفورِ علم کے سبب آپ کا مجموعہ حدیث تمام سابقہ مجموعوں سے سبقت لے گیا، بلکہ آپ کے بعد بھی کوئی آپ کے درجہ کمال کو نہ پہنچ سکا۔ یہی وجہ ہے کہ مسند احمد حدیث کے تمام اصلی مجموعوں میں سے سب سے زیادہ مبسوط اور ضخیم ہے ۔ المسند میں وہ سب کچھ ہے جس کی ضرورت ایک مؤمن و مسلم کو دنیا و دین کے لیے لاحق ہوسکتی ہے، المسند سنت و سیرت کا جامع ترین ماخذ ہے۔ علم حدیث کا کوئی ایسا باب نہیں جو المسند میں شامل نہ ہوسکا ہو۔ المسند موضوع وار ترتیب نہیں دی گئی بلکہ اس میں صحابہ کرام کی عمومی ترتیب فضیلت پر احادیث جمع کی گئی ہیں، سب سے پہلے خلفائے راشدین کی علیٰ ترتیب الفضیلت احادیث آتی ہیں، پھر بقیہ عشرہ مبشرہ کی پھر بدری صحابہ کی، پھر بیعت رضوان میں شامل ہونے والے صحابہ کرام

 کی۔ علیٰ ہٰذا القیاس، المسند میں ایک صحابی سے مروی تمام احادیث ایک ہی جگہ اکٹھی بیان کی گئی ہیں۔ المسند کی اس ترتیب میں بہت بڑی حکمت ہے، المسند کا متداول نسخہ چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے، اگر امام احمد اسے موضوع وار ترتیب دیتے تو اس کی ضخامت کم از کم پانچ گنا بڑھ جاتی۔ یہ کوئی مفروضہ نہیں بلکہ حقیقت ہے، حسن البنا ٔمصری شہید کے والد محترم احمد عبدالرحمن البنا ٔالساعتی نے عصرحاضر میں المسندکو موضوع وار ترتیب دیا ہے، اس موضوعاتی ترتیب پر تالیف کا نام انھوں نے الفتح الربانی فی ترتیب المسند الامام احمد بن حنبل الشیبانی رکھا ہے۔ اس موضوع وار ترتیب و تالیف کی چوبیس جلدیں ہیں۔ بظاہر تو موضوع وار ترتیب سے احادیث کو سمجھنے میں سہولت پیدا ہوگئی ہے، مگر ضخامت اس قدر بڑھ جانے کی وجہ سے اس کا مطالہ کئی گنا دشوار ہوگیا ہے، جبکہ امام احمد کی ترتیب مطالعہ کے لیے نسبتاً آسان ہے۔

جدید کمپیوٹر ٹیکنالوجی نے مسنداحمد سے استفادہ مزید آسان بنادیا ہے۔ ادارہ بیت الافکار الدولی (سعودی عرب) نے المسند کا الف بائی اشاریہ شائع کردیا ہے جس کی مدد سے کسی زیر تحقیق موضوع سے متعلق احادیث المسند میں آسانی سے تلاش کی جاسکتی ہیں ۔ حدیث کا کوئی ٹکڑا یاد ہو تو اسے المسند سے تلاش کرنا آسان ہوگیا ہے۔

        یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ المسند تمام احادیث رسول کی جامع ہے، تاہم یہ دعویٰ درست ہے کہ کوئی اہم دینی موضوع ایسا نہیں جس کا ذکر مسند کی احادیث میں موجود نہ ہو۔ کوئی ایسی اہم حدیث مسند سے خارج نہیں جس کا جاننا تکمیل ایمان کے لیے ضروری ہو یا جس کے بغیر علم فقہ ناقص رہ جاتا ہو۔ غرض مسند امام احمد عقیدہ و عمل دونوں کے لیے کامل رہنما ہے۔

نبی اکرم ﷺ

ۖ کا اسوئہ حسنہ کامل طور پر مسند میں شامل ہے، چونکہ نبی  چلتا پھرتا قرآن تھے، اس لیے مسند احمدکو معنوی طور پر دوسرا قرآن کہا جاسکتا ہے، اگرچہ اس کی استنادی حیثیت قرآن کے مساوی نہیں، مگر قرآنی تعلیمات کی جامع ترین تشریح المسند میں موجود ہے۔

        المسند کے بعد احادیث کے کئی مجموعے مدوّن ہوئے، جن میں سب سے نمایاں مجموعے صحاحِ ستہ کے نام سے معروف ہیں۔ صحاحِ ستہ میں سب سے اعلیٰ مقام امام بخاری کی الجامع الصحیح اور امام مسلم کی الجامع الصحیح کو حاصل ہے، علماء کا اتفاق ہے کہ قرآن کے بعد سب سے زیادہ صحیح کتابیں یہ مذکورہ کتابیں ہیں۔ تاہم یہ دونوں کتابیں تمام مقبول احادیث کی جامع نہیں ہیں، یہ وصف و شرف تو

صرف اور صرف مسنداحمد ہی کو حاصل ہے۔ اوپر مذکور ہوا کہ امام احمد بن حنبل نے المسند میں صرف مقبول احادیث جمع کی تھیں، امام احمد

نے المسند میں حدیث کی قبولیت کے لیے جو شرائط عائد کی ہیں، وہ ان شرائط سے اعلیٰ و اجود ہیں جو امام ابوداؤد

نے اپنی کتاب السنن میں اختیار کی ہیں ۔ حق یہ ہے کہ امام احمد

نے کسی متہم بالکذب راوی کی کوئی حدیث المسند میں شامل نہیں کی، لہٰذا امام الحدیث حافظ ابوالعلا ہمدانی ؒ نے تصریح کی ہے کہ  امام احمد کی مرویات میں کوئی موضوع روایت شامل نہیں

ؒ        امام ابن جوزی حنبلی

 ؒ رواة پر جرح میں متشدد مشہور ہیں، انھوں نے اپنی اس عادت کا تختۂ مشق مسند احمد کی بعض روایات کو بنایا تو امام ابن حجر عسقلانی 

 سے یہ برداشت نہ ہوسکا، چنانچہ انھوں نے المسند کی حمایت و نصرت میں مستقل رسالہ لکھ دیا جس کانام القول المسدّد فی الذبّ عن المسند ہے، اپنی اس تالیف لطیف میں امام ابن حجر عسقلانی نے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ مسند احمد (مرویاتِ احمد) میں کوئی موضوع حدیث شامل نہیں، جن روایات کو امام ابن جوزی نے تختۂ مشق بنایا تھا، امام ابن حجر نے انھیں مقبول احادیث ثابت کیا ہے

        یہ درست ہے کہ مسند کی ہر حدیث کا درجہ صحیحین کے مساوی نہیں، مگر اس کی اکثر احادیث صحیحین کے معیار کی ہیں، اس کی جو روایات اس معیار کی نہیں ہیں، وہ سنن اربعہ (سنن ابی داؤد، جامع الترمذی، سنن النسائی، سنن ابن ماجہ) کے معیار کی ضرور ہیں، بلکہ بعض ایسے ضعیف و مجروح راوی بھی ہیں جن کی روایات کتب سنن میں شامل ہیں مگر امام احمد نے ان سے روایات لینے سے گریز کیا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب مسنداحمد کا درجہ استناد اس قدر اعلیٰ ہے تو اسے صحاحِ ستہ میں شمار کیوں نہیں کیا جاتا؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ امام احمد بن حنبل نے جو مسند امام عبداللہ کو اِملا کرائی تھی، انھوں نے امام احمد کی وفات کے بعد اس میں مزید روایات کا اضافہ کیا، جن میں اپنے والد سے سنی ہوئی روایات بھی تھیں اور اپنے دوسرے شیوخ سے سنی ہوئی روایات بھی۔ امام عبداللہ کے شاگرد ابوبکر جعفرالقطیعی جو المسند کے ناقل ہیں، انھوں نے بھی اس میں مزید روایات شامل کیں، شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ نے وضاحت کی ہے کہ ابوبکر جعفر القطیعی کی شامل کردہ روایات کا ایک بڑا حصہ موضوع روایات پر ۔۔۔مشتمل ہے 

        آج جو مسند ہمارے پاس موجود ہے، وہ امام احمد ، امام عبداللہ اور ابوبکر جعفر القطیعی کی مرویات کا مجموعہ ہے، القطیعی کی موضوع روایات کی بنا پر المسند کو صحاح میں شمار نہیں کیا جاتا، اگرچہ خود امام احمد 

کی مرویات صحاح میں شامل ہونے کے لائق ہیں۔ یہی سبب ہے کہ مجدد العصر شاہ ولی اللہ محدث دہلوی 

سنن ابن ماجہ کی جگہ مسند احمد کو صحاحِ ستہ میں شمار کرتے تھے۔ مسند کی اسناد سے معلوم ہوجاتا ہے کہ کونسی احادیث امام احمد کی مرویات ہیں، کونسی امام عبداللہ بن احمد کی اور کونسی ابوبکر جعفر القطیعی کی۔ لہٰذا آج بھی المسند سے اسی طرح بے خطر استفادہ کیا جاسکتا ہے جس طرح امام احمد کے دور میں کیا جاتا تھا۔ امام احمد نے اپنے بیٹے امام عبداللہ سے فرمایا تھا


المسند کو خوب اچھی طرح یاد کرلو، یہ عنقریب لوگوں کی امام ہوگی


        فی الواقع المسند میں صحاحِ ستہ کی چند ایک احادیث کے سوا باقی سبھی احادیث شامل ہیں، صحاح ستہ کی وہ احادیث جو المسند میں شامل ہونے سے رہ گئی ہیں، ان کا تناسب تقریباً ایک فیصد ہے، اس لحاظ سے المسند کو صحاحِ ستہ کی ماں کہا جاسکتا ہے۔ یوں المسند کے امامُ الناس ہونے کا قول پورا ہوجاتا ہے۔ المسند اس اعتبار سے بھی امام الناس ہے کہ فقہائے اُمت نے جن احادیث سے شریعت کے احکام اخذ کیے ہیں، وہ سبھی المسند میں موجود ہیں، اُمت آج جن اَئمۂ کرام کے اجتہادی مذاہب کی پیرو ہے، وہ سب قرآن حکیم کے بعد انہی احادیث سے ہدایات حاصل کرتے رہے ہیں، جو المسند میں جمع ہیں۔ یہی سبب ہے کہ اپنے ز مانۂ تالیف سے لے کر آج تک المسند کو اَئمۂ حدیث و فقہ کے نزدیک تلقّی بالقبول حاصل رہا ہے، بلامبالغہ ہزاروں خوش نصیبوں نے المسند کو ابتدا سے آخر تک ایسے حفظ کیا ہے جیسے قرآن حکیم کو حفظ کیا جاتا ہے، ایسے خوش نصیبوں کا مفصل تذکرہ امام شمس الدین محمد بن احمد الذہبی کی تالیف لطیف ''تذکرةالحُفَّاظ'' میں دیکھا جاسکتا ہے۔کے لیے صحاحِ ستہ ہی کی طرف رجوع کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے 

Comments